سستی اورنامردی کی چند وجوہات

images (32)

 سستی اورنامردی کی چند وجوہات

پیدائشی طور پہ نامرد ہونا تو لا علاج نقص ہے لیکن جو نوجوان جوانی کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے قوت مردی سے محروم ہو جاتے ہیں ان کے لئیے ضروری ہے کہ ان کا مناسب علاج کریں.شفا یابی کے بعد بھی ایک عرصہ تک مجامعت سے پرہیز کریں.ورنہ اگر جوش شہوت کے بیدار ہوتے ہی پھر کثرت مجامعت سے کام لیا تو جوش شہوت محض چند روزہ ثابت ہو گا.اور اس کے بعد پھر وہی کمزوری ہو جائے گی.شہوت پر خیالات کا بڑا اثر پڑتا ہے جو لوگ مدت سے جنسی عمل نہ کر سکے ہوں یوں بھی سوچنے لگتے ہیں کہ اب ہم کبھی مجامعت پر قادر نہ ہو سکیں گے.تو جب تک دل سے یہ وہم دور نہ ہو جائے اس وقت تک وہ طبعی طور پر بھی قطعی تندرست نہیں ہوں گے.اس لئے ایسے لوگوں کو علاج کے دوران میں اگر اتفاقیہ طور پر بھی خیزش ہو جائے تو اس سے فائدہ اٹھا کر جماع کر لینا ان کے دل سے کمزوری کے وہم کو نکال دیتا ہے.اور اس سے ان کے علاج میں بڑی مدد ملتی ہے.لیکن اس کی اجازت صرف ان ہی لوگوں کے لئے ہے جو کئی سالوں سے عورت کے لیے ناقابل ہوں کمزور ہوں.مباشرت کی قوت کا دارومدار منی کی کثرت پر ہے.کثرت مباشرت سے جسم منی سے خالی ہو جاتا ہے.اور جب تک نئی اور تازہ منی پیدا نہ ہو مباشرت کی کمزوری کا دور ہونا نا ممکن ہےمنی غذا سےپیدا ہوتی ہے.جو غذا ہم آج کھاتے ہیں وہ تقریبا ایک ماہ کے عرصہ میں منی میں تبدیل ہو جاتی ہے.اس لئیے وہ لوگ سخت غلطی پر ہیں جو کئی سالوں کے عرصہ کی پیدا کی ہوئی کمزوریوں کو چند دنوں میں دور کرنے خواہش رکھتے ہیں
عضو کو خیزش میں لانے اور مجامعت کے فرائض کو بوجہ احسن بجا لانے کے کام میں دل و دماغ اورمعدہ و جگر نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں ان میں سے کسی بھی ایک خرابی قوت مردی کو ضعیف کر دینے کاباعث ہوسکتی ہے.کثرت مباشرت سے یہ تمام اعضاء کمزور ہوجاتے ہیں.اس لئے جب تک ان اعضاء کو تقویت نہ پہنچائی جائے اس وقت تک قوت مردی کا بحال ہونا نا ممکن ہے.کثرت مباشرت مرد و عورت کو خزاں رسیدہ شاخ کی طرح یژمردہ کر دیتی ہیے.مرداکثر صورتوں میں جریان اور سرعت انزال ایسے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں.اور شرمندگی کی وجہ سے عورت کو منہ دکھانے کےقابل نہیں رہیتے.عورت حیض کی گوناگوں خرابیوں اور جریان الرحم وغیرہ مبتلا ہو کر اولاد پیدا کرنے قابل نہیں رہیتی.عورت مرد سے متنفر ہو جاتی ہے کہ وہ اس کے جذبات کی پذیرائی کے ناقابل ہو جاتا ہے.اور یوں دونوں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے
..منی کی ماہیت.مرد کی منی معتدل یعنی نہ حد سے زیادہ گاڑھی اور نہ پانی جیسی پتلی ہوتی ہے.بہتر منی کا رنگ سفید ہوتا ہے اور بوقت اخراج اچھل اچھل کر نہایت لذت سے نکلا کرتی ہے.اگر منی پہلے گاڑھی اورپھر آہستہ آہستہ تھوڑی دیر کے بعد رقیق ہو جائے تو منی کی عمدگی کی نشانی ہے.عورت کی منی ہلکے ذرد رنگ کی ہوتی ہے.اور رقیق ہوتی ہے.جن کی منی درست نہیں ہوتی اول تو ان کو اولاد ہوتی ہی نہیں اور اگر ہو جائے تو کمزور اور بیمار ہوتی ہے

herbalelaj post

About Hakeem Arif

Check Also

سفوف مغلظ خاص الخاص

سفوف مغلظ خاص الخاص السلام علیکم دوستوں آج کا نسخہ سفوف مغلظ کا ہے بہت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *